Font by Mehr Nastaliq Web

ترا لطف جس کو چاہے اسے ضوفشاں بنا دے

عاصی کرنالی

ترا لطف جس کو چاہے اسے ضوفشاں بنا دے

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    ترا لطف جس کو چاہے اسے ضوفشاں بنا دے

    جو بکھر رہے ہیں ذرے انہیں کہکشاں بنا دے

    جو تری رضا ہو مولیٰ تو بہار ہی نہ جائے

    جو کھلے ہوئے چمن ہیں انہیں بے خزاں بنا دے

    مجھے روشنی عطا کر مجھے آگہی عطا کر

    مرے دل کو دل بنا دے مری جاں کو جاں بنا دے

    میں ہوں رزق پستیوں کا مجھے سرفراز کر دے

    میں زمینِ مبتذل ہوں مجھے آسماں بنا دے

    میں غبارِ نیستی ہوں تو نگاہِ مرحمت سے

    مجھے بے پناہ کر دے مجھے بے کراں بنا دے

    میں ہوں دشت دشت رسوا کڑی دھوپ کا سفر ہے

    تو کرم کے بادلوں کو مرا سائباں بنا دے

    جو عمل ہو مجھ سے صادر تو وہ خیر کا عمل ہو

    جو عمل کی برکتیں ہوں انہیں جاوداں بنا دے

    شبِ تیرہ کے جگر سے تو سحر ابھارتا ہے

    مرا جہل دور کر دے مجھے نکتہ داں بنا دے

    ترے اختیار میں ہیں سبھی حسن کے خزانے

    مجھے خوش خیال کر دے مجھے خوش بیاں بنا دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے