جب اندھیروں کے سبب کچھ بھی نہیں تھا روشن
جب اندھیروں کے سبب کچھ بھی نہیں تھا روشن
دشتِ امکاں میں ہوئی مشعلِ کعبہ روشن
حرمِ پاک کے آنگن سے طلوعِ خورشید
روئے اصنام سیہ چہرۂ مولیٰ روشن
اس کی نسبت سے فروزاں مرا ایماں مرا دیں
میری دنیا متجلی مری عقبیٰ روشن
میرے جذبات مطہر مری سوچیں مثبت
میری آواز توانا مرا لہجہ روشن
اس اجالے سے منور مرا ماضی مرا حال
اس چمک سے مری پیشانئ فردا روشن
چشمِ اقوام و ملل میں مری پہچان اس سے
صفحۂ دہر پہ ہے میرا حوالہ روشن
ایک ہے ساحلِ امید سفینوں کے لیے
تند امواج میں ہے ایک منارہ روشن
ہم خیالی کی فضا اہلِ سفر میں اس سے
یہی صحرا یہی وادی یہی رستہ روشن
ربط اس مرکزِ وحدت سے بڑھے گا جتنا
ہوگا تاریخ میں کردار ہمارا روشن
کعبۂ عشق ترے صحن و در و بام آباد
منزلِ اہلِ محبت ترا ماتھا روشن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.