Font by Mehr Nastaliq Web

آخری نبوت کے ایک ایک لمحے میں

عاصی کرنالی

آخری نبوت کے ایک ایک لمحے میں

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    آخری نبوت کے ایک ایک لمحے میں

    بے شمار ازل ملفوف ان گنت ابد پنہاں

    اے مرادِ بزم کن تیرے بابِ عالی پر

    دست بستہ حاضر ہیں کیا حدوث کیا امکاں

    طوفِ گنبدِ خضریٰ ان کا مقصدِ تخلیق

    کتنے گنبدِ گردوں صبح و شام ہیں گرداں

    اس مکان سے آگے لامکان جتنے ہیں

    ہر جگہ چمکتا ہے تیرا چہرۂ تاباں

    اس زمان سے آگے لا زمان جتنے ہیں

    سب کروں کی صورت ہیں تیرے وقت میں غلطاں

    کتنے چاند اور سورج خاک پر بکھر جائیں

    تیری ناز فرمائی جھاڑ دے اگر داماں

    بیکراں فضاؤں میں کہکشائیں لاکھوں ہیں

    سب خراج ہے تیرا اے شہنشہِ دوراں

    عالمین جتنے ہیں تو ہے سب کا پیغمبر

    ہر جگہ تری مسند ہر طرف ترا فرماں

    تیری شرع ہے نافذ سب قرونِ ماضی پر

    تیری تابعِ منشور آنے والی سب صدیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے