آخری نبوت کے ایک ایک لمحے میں
آخری نبوت کے ایک ایک لمحے میں
بے شمار ازل ملفوف ان گنت ابد پنہاں
اے مرادِ بزم کن تیرے بابِ عالی پر
دست بستہ حاضر ہیں کیا حدوث کیا امکاں
طوفِ گنبدِ خضریٰ ان کا مقصدِ تخلیق
کتنے گنبدِ گردوں صبح و شام ہیں گرداں
اس مکان سے آگے لامکان جتنے ہیں
ہر جگہ چمکتا ہے تیرا چہرۂ تاباں
اس زمان سے آگے لا زمان جتنے ہیں
سب کروں کی صورت ہیں تیرے وقت میں غلطاں
کتنے چاند اور سورج خاک پر بکھر جائیں
تیری ناز فرمائی جھاڑ دے اگر داماں
بیکراں فضاؤں میں کہکشائیں لاکھوں ہیں
سب خراج ہے تیرا اے شہنشہِ دوراں
عالمین جتنے ہیں تو ہے سب کا پیغمبر
ہر جگہ تری مسند ہر طرف ترا فرماں
تیری شرع ہے نافذ سب قرونِ ماضی پر
تیری تابعِ منشور آنے والی سب صدیاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.