لو وہ آیا اذن لو آقا نے بلوایا مجھے
لو وہ آیا اذن لو آقا نے بلوایا مجھے
لو چلا میں اب دکھائے روک کر دنیا مجھے
ان کا پیغامِ طلب ہاں ان کا پیغامِ طلب
اللہ اللہ ان کا پیغامِ طلب پہنچا مجھے
میں کہ گورستان غم میں لاشۂ مرحوم تھا
اک پیامِ جاں فزا نے کر دیا زندہ مجھے
کیوں نہ عاصیؔ آج میں خود کو مبارک باد دوں
رحمتہ اللعالمیں نے یاد فرمایا مجھے
ہجر نے باچشمِ نم مجھ کو خدا حافظ کہا
وصل نے چشمِ غرور و ناز سے دیکھا مجھے
دشت کے کانٹے حریر و پرنیاں سے نرم تر
مخلمیں قالین تھا پھیلا ہوا صحرا مجھے
ارضِ یثرب نے کہا اہلاً و سہلاً مرحبا
دل سے میری قدر کی سینے سے لپٹایا مجھے
شرم سے چہرہ مرا گل رنگ ہو کر رہ گیا
شہرِ طیبہ کی ہوا نے اس قدر چوما مجھے
میں خس و خاشاک مشتِ خاک مجھ پر یہ کرم
یوں پذیرائی مری یہ کب تھا اندازہ مجھے
دیدۂ حیرت زدہ سے دیکھتے تھے بار بار
گنبدِ خضریٰ کو میں اور گنبدِ خضریٰ مجھے
میں کہاں ہوں یہ خیال اعصاب پر طاری رہا
خود مری دیوانگی نے ہوش میں رکھا مجھے
عمر بھر کی تشنہ کامی کی تلافی ہوگئی
اک نگاہِ ملتفت نے اس طرح دیکھا مجھے
جان و تن کی ہر کثافت نور میں چھانی گئی
ظاہر و باطن مرے آلودہ تھے دھویا مجھے
میں زرِ ناقص تھا میں سارے کا سارا کھوٹ تھا
دیکھتے ہی دیکھتے کندن بنا ڈالا مجھے
کیا سخی ہے جِس نے بن مانگے عطا فرما دیے
نطقِ گویا قلبِ دانا دیدۂ بینا مجھے
کیا کہوں کیا کیا کہوں کیسے کہوں کس سے کہوں
اس نے کیا بخشا مجھے اور کس قدر بخشا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.