اے شاہ_زمن اے خیر_بشر بس ایک نظر بس ایک نظر
اے شاہ زمن اے خیر بشر بس ایک نظر بس ایک نظر
للہ کریں مجھ عاصی پر بس ایک نظر بس ایک نظر
کچھ اور نہیں درکار مجھے درکار ہیں بس سرکار مجھے
ہے لطف و عنایت کے مصدر بس ایک نظر بس ایک نظر
منگتا ہوں تیرے دربار کا میں پیاسا ہوں تیرے دیدار کا میں
جلووں سے تری ہے دیدۂ تر بس ایک نظر بس ایک نظر
سب اپنے پرائے چھوٹ گئے سب رشتے ناطے ٹوٹ گئے
اب جاؤں تو جاؤں میں کس در بس ایک نظر بس ایک نظر
اک چاک گریباں دیوانہ دنیا سے ہوا ہے بیگانہ
کرتا ہے گزارش خاک بشر بس نظر بس ایک نظر
صدقے میں جناب زہرہ کے شفقت سے بھری رحمت سے بھری
فرمان حمیدؔ عاجز بس ایک نظر بس ایک نظر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.