Font by Mehr Nastaliq Web

مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو

عبدالحامد بدایونی

مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو

عبدالحامد بدایونی

MORE BYعبدالحامد بدایونی

    مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو

    میرے خیال و خواب کی دنیا تمہیں تو ہو

    تاباں ہے جس کے نور سے دنیائے زندگی

    وہ شمع نور، نورِ سراپا تمہیں تو ہو

    پھرتے ہیں جس کو ڈھونڈتے مہتاب و آفتاب

    اے حاصل مراد وہ جلوہ تمہیں تو ہو

    ہے حسن میں تمہارے کچھ اس طرح دل کشی

    سو بار جس کو دیکھ کر دیکھا تمہیں تو ہو

    تم اور صرف تم ہو زمانہ کی آبرو

    گیسو جہاں کا جس نے سنوارا تمہیں تو ہو

    تم سامنے نہیں ہو تو کچھ سوجھتا نہیں

    آنکھوں کا نور، دل کا اجالا تمہیں تو ہو

    قربان تم پر دونوں جہاں کی مسرتیں

    روزِ ازل سے دل کی تمنا تمہیں تو ہو

    تم وہ کہ بت کدے کو بھی کعبہ بنا دیا

    مقصودِ کعبہ، کعبہ کا کعبہ تمہیں تو ہو

    سینہ بنا ہوا ہے مدینے کا آئینہ

    حامدؔ کے دل میں سید والا تمہیں تو ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے