مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
میرے خیال و خواب کی دنیا تمہیں تو ہو
تاباں ہے جس کے نور سے دنیائے زندگی
وہ شمع نور، نورِ سراپا تمہیں تو ہو
پھرتے ہیں جس کو ڈھونڈتے مہتاب و آفتاب
اے حاصل مراد وہ جلوہ تمہیں تو ہو
ہے حسن میں تمہارے کچھ اس طرح دل کشی
سو بار جس کو دیکھ کر دیکھا تمہیں تو ہو
تم اور صرف تم ہو زمانہ کی آبرو
گیسو جہاں کا جس نے سنوارا تمہیں تو ہو
تم سامنے نہیں ہو تو کچھ سوجھتا نہیں
آنکھوں کا نور، دل کا اجالا تمہیں تو ہو
قربان تم پر دونوں جہاں کی مسرتیں
روزِ ازل سے دل کی تمنا تمہیں تو ہو
تم وہ کہ بت کدے کو بھی کعبہ بنا دیا
مقصودِ کعبہ، کعبہ کا کعبہ تمہیں تو ہو
سینہ بنا ہوا ہے مدینے کا آئینہ
حامدؔ کے دل میں سید والا تمہیں تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.