آسمانوں کے ستاروں کے نگہبان خدا
آسمانوں کے ستاروں کے نگہبان خدا
فرشِ خاکی کی بہاروں پہ مہربان خدا
آپ کی شان کریمی ہے کہ ہم لوگوں کے
پورے ہوتے ہیں صبح و شام جو ارمان خدا
فرش سے عرش تلک آپ کا ہے نورِ مبیں
مجھ کو ہر پھول نظر آئے دبستان خدا
میں جو گرتا ہوں بھٹکتا ہوں سنبھل جاتا ہوں
سایہ بن کر مرے سر پر جو ہے رحمان خدا
ساری مخلوق کا داتا ہے وہ رازق ہے خدا
بس مجیدؔ اپنے لیے تو ہے فراوان خدا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.