نظارہ چشمِ حق بیں نے کیا جب آپ کے قد کا
نظارہ چشمِ حق بیں نے کیا جب آپ کے قد کا
عبدالقادر آزاد جئے پوری
MORE BYعبدالقادر آزاد جئے پوری
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔
نظارہ چشمِ حق بیں نے کیا جب آپ کے قد کا
تو بن کر آنکھ میں تل رہ گیا سایہ محمد کا
تفاوت اس قدر ہے اہل معنی دیکھ لو ظاہر
کہ موسیٰ رب کے عاشق تھے خدا عاشق محمد کا
بنی آدم سے تا عیسیٰ جہاں میں جتنے بھی آئے
سنانے آئے تھے عالم کو مژدہ ان کی آمد کا
عیاں ہے مرتبہ اے اہلِ عرفاں عرشِ اعظم کا
ہر اک حور و ملک جاروب کش ہے ان کے مرقد کا
منور کیوں نہ ہو جاتے دو عالم ان کے پرتو سے
ظہور دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا
چلی جائے گی بن کر بلبلِ شیدا مدینہ کو
قفس جس وقت ٹوٹے گا مری روحِ مقید کا
چلو آبادؔ طیبہ کو نکالو حسرتیں دل کی
کہ نکلے گا وہیں چل کر یہ ارماں شوق بے حد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.