Font by Mehr Nastaliq Web

طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

عبدالواجد نیر قادری

طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

عبدالواجد نیر قادری

MORE BYعبدالواجد نیر قادری

    طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے

    شاید نہ دل مضطر پہلو سے نکل جائے

    ہر وقت مجھے رضواں طیبہ کا نظارہ ہے

    کیسے تری جنت میں دل میرا بہل جائے

    تو جانِ تمنا ہے کونین کا مالک ہے

    گر تیرا اشارہ ہو تقدیر بدل جائے

    آنکھیں ہوں مری پُر نم اور ہاتھ میں جالی ہو

    پھر زیست کا یہ سورج اے کاش کہ ڈھل جائے

    دل درد کا مسکن ہے اے جانِ مسیحائی

    گر مار دے تو ٹھوکر پتھر بھی پگھل جائے

    یہ داغ ترے دل میں بے وجہ نہیں نیرؔ

    محشر میں کہیں اس کی رحمت نہ مچل جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے