طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
شاید نہ دل مضطر پہلو سے نکل جائے
ہر وقت مجھے رضواں طیبہ کا نظارہ ہے
کیسے تری جنت میں دل میرا بہل جائے
تو جانِ تمنا ہے کونین کا مالک ہے
گر تیرا اشارہ ہو تقدیر بدل جائے
آنکھیں ہوں مری پُر نم اور ہاتھ میں جالی ہو
پھر زیست کا یہ سورج اے کاش کہ ڈھل جائے
دل درد کا مسکن ہے اے جانِ مسیحائی
گر مار دے تو ٹھوکر پتھر بھی پگھل جائے
یہ داغ ترے دل میں بے وجہ نہیں نیرؔ
محشر میں کہیں اس کی رحمت نہ مچل جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.