Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

گھٹائیں چھا گئیں دنیا پہ رحمت جوش میں آئی

رؤف کاکوروی

گھٹائیں چھا گئیں دنیا پہ رحمت جوش میں آئی

رؤف کاکوروی

MORE BYرؤف کاکوروی

    گھٹائیں چھا گئیں دنیا پہ رحمت جوش میں آئی

    کسی کی زلف مشکیں دوش سیمیں پر جو لہرائی

    کہاں تک صبر کب تک ضبط کس حد تک شکیبائی

    حسینوں کو جھکا لے گا ترا انداز رعنائی

    زمانہ کہتا ہے مجھ کو یہ سودائی ہے سودائی

    مرا عالم یہ کیا جانے مجھے بھائی ہے رسوائی

    تمہیں احمد تمہیں محمود تم ہی شافع محشر

    تمہارے در پہ کرتے ہیں فرشتے بھی جبیں سائی

    زمانہ ہو گیا پر نور گلشن جگمگا اٹھا

    گھٹا رحمت کی اٹھی اور ایسی جھوم کر آئی

    سیاہی مٹ گئی دنیا کی کعبہ اب بنا قبلہ

    جوں ہی تشریف لائے آپ ہر شئے پر بہار آئی

    تن اسلام میں پھونکی تھی تم نے روح جاں پرور

    اسی سے آج تک باقی ہے یہ تاب و توانائی

    تغافل ہے تساہل ہے کہ میری تیرہ بختی ہے

    ازل سے ہے جبین عشق سر مست جبیں سائی

    تمہارا ہی رہوں گا میں تمہارا ہوں ہمیشہ سے

    تمہاری ہی خدائی دونوں عالم میں نظر آئی

    مزا جب ہے کہ محشر میں کہیں خود شافع محشر

    رؤف بے نوا کی آج کیسی بات بن آئی

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلداٹھارہویں (Pg. 128)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے