درِ نبی پر پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
درِ نبی پر پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
کبھی تو قسمت پھرے گی میری کبھی تو میرا سلام ہوگا
شفیعِ محشر لقب ہے ان کا انہیں شفاعت سے کام ہوگا
ہے سب کا دار و مدار اس پر وہی مدارالمہام ہوگا
دیارِ رحمت پہ ہوگا قبضہ انہیں کا ہر سو بجے گا ڈنکا
جو حشر ہو گا تو دیکھ لینا انہیں کا سب انتظام ہوگا
کہے ہی جاؤں گا عرضِ مطلب ملے گا جب تک نہ دل کا مطلب
نہ شام مطلب کی صبح ہوگی نہ یہ فسانہ تمام ہوگا
کرو شفاعت کا آج دن ہے کہ عدل پر ہے جناب باری
تمام امت چھٹے گی غم سے تو سارے نبیوں میں نام ہوگا
اسی توجہ پہ جی رہا ہوں یہی تمنا جلا رہی ہے
نگاہِ لطف وکرم نہ ہوگی تو مجھ کو جینا حرام ہوگا
ہوئی جو کوثر پہ باریابی تو کیفؔ میکش کی دھج یہ ہوگی
بغل میں مینا، نظر میں ساقی، خوشی سے ہاتھوں میں جام ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.