آج بھی چاروں طرف میرے دکھوں کی دھوپ ہے
آج بھی چاروں طرف میرے دکھوں کی دھوپ ہے
زندگی کو سایۂ رحمت ترا درکار ہے
بخشش دے! میری نظر کو بھی کرم کی روشنی
میرے علم و آگہی کو روشنی درکار ہے
زندگانی ہے وہی گزرے جو تیری یاد میں
ورنہ ساری زندگی ہنگامۂ بیکار ہے
ان کے در سے کوئی بھی خالی کبھی آیا نہیں
میری امیدوں کا مرکز بھی درِ سرکار ہے
آرزو ہے میں بھی تیرا شہر دیکھوں اس برس
میری ان آنکھوں کو کب سے خواہش دیدار ہے
میں تو ان کے رتبہ عالی کا ہوں اونی فقیر
اور میرا مقصود، سائلؔ مدحت سرکار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.