جو سامنے ہے مدینہ تو دیکھتا کیا ہے
جو سامنے ہے مدینہ تو دیکھتا کیا ہے
یہی تو کعبے کا کعبہ ہے سوچتا کیا ہے
مرے حضور کو اے خود سا بولنے والے
تو ان کی ذات کے بارے میں جانتا کیا ہے
بروزِ حشر خدایوں کہے گا بندوں سے
جو مصطفیٰ کو نہ مانے وہ مانتا کیا ہے
قضا کے خوف سے کر لے گا وہ قبول تجھے
یزید میرے سخی کو تو سمجھتا کیا ہے
تری گلی کو ہی مانگا ہے جا کے جنت میں
تو اس پہ بولے فرشتے یہ مانگتا کیا ہے
اگر نہیں ہے پسینہ گلوں میں آقا کا
تو پھر بتاؤ کہ گلشن میں مہکتا کیا ہے
خدا سے مانگنے وہ آتے ہیں جو شام و سحر
جو مصطفیٰ سے نہ مانگے وہ مانگتا کیا ہے
لگے نہ جس پہ قدم مصطفیٰ کے اے حاکمؔ
وہ جائے سوئے حرم بھی تو راستہ کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.