Font by Mehr Nastaliq Web

جو سامنے ہے مدینہ تو دیکھتا کیا ہے

احمد علی حاکمؔ

جو سامنے ہے مدینہ تو دیکھتا کیا ہے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    جو سامنے ہے مدینہ تو دیکھتا کیا ہے

    یہی تو کعبے کا کعبہ ہے سوچتا کیا ہے

    مرے حضور کو اے خود سا بولنے والے

    تو ان کی ذات کے بارے میں جانتا کیا ہے

    بروزِ حشر خدایوں کہے گا بندوں سے

    جو مصطفیٰ کو نہ مانے وہ مانتا کیا ہے

    قضا کے خوف سے کر لے گا وہ قبول تجھے

    یزید میرے سخی کو تو سمجھتا کیا ہے

    تری گلی کو ہی مانگا ہے جا کے جنت میں

    تو اس پہ بولے فرشتے یہ مانگتا کیا ہے

    اگر نہیں ہے پسینہ گلوں میں آقا کا

    تو پھر بتاؤ کہ گلشن میں مہکتا کیا ہے

    خدا سے مانگنے وہ آتے ہیں جو شام و سحر

    جو مصطفیٰ سے نہ مانگے وہ مانگتا کیا ہے

    لگے نہ جس پہ قدم مصطفیٰ کے اے حاکمؔ

    وہ جائے سوئے حرم بھی تو راستہ کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے