Font by Mehr Nastaliq Web

یا رب رواں یہ سانس کی جب تک لڑی رہے

احمد علی حاکمؔ

یا رب رواں یہ سانس کی جب تک لڑی رہے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    یا رب رواں یہ سانس کی جب تک لڑی رہے

    مستی نبی کے عشق کی مجھ کو چڑھی رہے

    بولا خدا کے واپسی ہو جب تک نہ آپ کی

    جو شے جہاں کھڑی ہے وہیں پر کھڑی رہے

    دیوانہ اپنی ذات کا یوں کیجیے مجھے

    مر کے بھی مجھ کو آپ کی حسرت بڑی رہے

    سینے میں میرے جب تلک دھڑکن موجود ہے

    تصویر شہرِ مصطفیٰ دل میں جڑی رہے

    جب تک مجھ کو پوچھنے آجائیں نہ حضور

    یہ آخری جو سانس ہے یوں ہی اڑی رہے

    مرنے کے بعد حاکمؔ حسرت ہے بس یہی

    کوئے نبی میں حشر تک میت پڑی رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے