یا رب رواں یہ سانس کی جب تک لڑی رہے
یا رب رواں یہ سانس کی جب تک لڑی رہے
مستی نبی کے عشق کی مجھ کو چڑھی رہے
بولا خدا کے واپسی ہو جب تک نہ آپ کی
جو شے جہاں کھڑی ہے وہیں پر کھڑی رہے
دیوانہ اپنی ذات کا یوں کیجیے مجھے
مر کے بھی مجھ کو آپ کی حسرت بڑی رہے
سینے میں میرے جب تلک دھڑکن موجود ہے
تصویر شہرِ مصطفیٰ دل میں جڑی رہے
جب تک مجھ کو پوچھنے آجائیں نہ حضور
یہ آخری جو سانس ہے یوں ہی اڑی رہے
مرنے کے بعد حاکمؔ حسرت ہے بس یہی
کوئے نبی میں حشر تک میت پڑی رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.