سکندی نہ ہمیں سروری چاہیے
سکندی نہ ہمیں سروری چاہیے
یا نبی آپ کی نوکری چاہیے
اور ہم کو مطلب ہے کیا قصرِ سلطان سے
سعدیہ بس تیری جھونپڑی چاہیے
اپنی ما زاغ آنکھیں ذرا کھولیے
ان گھٹاؤں کو رنگ سرمئی چاہیے
کل کو چھوڑو کہ کل ہو نہ ہو کیا خبر
آپ کی دید بس آج ہی جاہیے
اپنے چہرے سے زلفیں ہٹا دیجیے
تیرگی ہے بہت روشنی چاہیے
چہرۂ مصطفیٰ گر ہو پیشِ نظر
چاند چاہیے نہ پھر چاندنی چاہیے
دور گزرے جو آقا تیرے شہر سے
ہم کو ایسی نہیں زندگی چاہیے
بولے آ کے لحد میں نکیرین یوں
سننی حاکمؔ سے نعتِ نبی چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.