Font by Mehr Nastaliq Web

سکندی نہ ہمیں سروری چاہیے

احمد علی حاکمؔ

سکندی نہ ہمیں سروری چاہیے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    سکندی نہ ہمیں سروری چاہیے

    یا نبی آپ کی نوکری چاہیے

    اور ہم کو مطلب ہے کیا قصرِ سلطان سے

    سعدیہ بس تیری جھونپڑی چاہیے

    اپنی ما زاغ آنکھیں ذرا کھولیے

    ان گھٹاؤں کو رنگ سرمئی چاہیے

    کل کو چھوڑو کہ کل ہو نہ ہو کیا خبر

    آپ کی دید بس آج ہی جاہیے

    اپنے چہرے سے زلفیں ہٹا دیجیے

    تیرگی ہے بہت روشنی چاہیے

    چہرۂ مصطفیٰ گر ہو پیشِ نظر

    چاند چاہیے نہ پھر چاندنی چاہیے

    دور گزرے جو آقا تیرے شہر سے

    ہم کو ایسی نہیں زندگی چاہیے

    بولے آ کے لحد میں نکیرین یوں

    سننی حاکمؔ سے نعتِ نبی چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے