Font by Mehr Nastaliq Web

زلف دیکھی ہے کہ نظروں نے گھٹا دیکھی ہے

احمد علی حاکمؔ

زلف دیکھی ہے کہ نظروں نے گھٹا دیکھی ہے

احمد علی حاکمؔ

MORE BYاحمد علی حاکمؔ

    زلف دیکھی ہے کہ نظروں نے گھٹا دیکھی ہے

    لٹ گیا جس نے محمد کی ادا دیکھی ہے

    اپنے چہرے کو چھپانا نہ اے مرے آقا

    بعد مدت کے بیماروں نے شفا دیکھی ہے

    سر جھکائے ہوئے چلتے ہیں وفادار سبھی

    جب سے غازی کی زمانے نے وفا دیکھی ہے

    یوں تو شبیر سبھی کرتے ہیں بندگی لیکن

    تیری بندگی تو زمانے سے جدا دیکھی ہے

    درِ سرکار پہ پہنچے تو یہ پوچھا سب سے

    ہم نے مرنا ہے کہیں یارو قضا دیکھی ہے

    آج سرکار نے زلفوں کو سنوارا ہوگا

    تب ہی حاکمؔ نے معطر یہ فضا دیکھی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے