زلف دیکھی ہے کہ نظروں نے گھٹا دیکھی ہے
زلف دیکھی ہے کہ نظروں نے گھٹا دیکھی ہے
لٹ گیا جس نے محمد کی ادا دیکھی ہے
اپنے چہرے کو چھپانا نہ اے مرے آقا
بعد مدت کے بیماروں نے شفا دیکھی ہے
سر جھکائے ہوئے چلتے ہیں وفادار سبھی
جب سے غازی کی زمانے نے وفا دیکھی ہے
یوں تو شبیر سبھی کرتے ہیں بندگی لیکن
تیری بندگی تو زمانے سے جدا دیکھی ہے
درِ سرکار پہ پہنچے تو یہ پوچھا سب سے
ہم نے مرنا ہے کہیں یارو قضا دیکھی ہے
آج سرکار نے زلفوں کو سنوارا ہوگا
تب ہی حاکمؔ نے معطر یہ فضا دیکھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.