جدا دل سے جو حضرت کی محبت ہو گئی ہوتی
جدا دل سے جو حضرت کی محبت ہو گئی ہوتی
ابھی برپا زمانے میں قیامت ہو گئی ہوتی
جو آ جاتی مری چشمِ تمنا بات پر اپنی
ہر اک جانب ہویدا تیری صورت ہو گئی ہوتی
نہ رہتا چہرۂ اقدس اگر اکثر حجابوں میں
زمانے کو ترے جلووں سے حیرت ہو گئی ہوتی
اگر پاسِ ادب ان کا بڑھ کر تھا متا دامن
مدینے تک مری وحشت کی شہرت ہو گئی ہوتی
سکھائے آپ ہی نے دہر کو آدابِ انسانی
جہاں سے ورنہ رخصت آدمیت ہو گئی ہوتی
نبی نے اپنا کہہ کر آبرو رکھ لی مری ورنہ
ابھی مجھ سے خطا محشر میں رحمت ہو گئی ہوتی
زمانے بھر کو پیغامِ تسلی بخش نے والے
مری تسکین کی بھی کوئی صورت ہو گئی ہوتی
نہ دیتے مژدہ لا تقنطوا آقا اگر مجھ کو
غمِ عصیاں سے میری غیر حالت ہو گئی ہوتی
بنا دیتے جو قسمت ابرؔ وہ طیبہ میں بلوا کر
قسم کھانے کے قابل میری قسمت ہو گئی ہوتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.