Font by Mehr Nastaliq Web

جدا دل سے جو حضرت کی محبت ہو گئی ہوتی

ابر بدایونی

جدا دل سے جو حضرت کی محبت ہو گئی ہوتی

ابر بدایونی

MORE BYابر بدایونی

    جدا دل سے جو حضرت کی محبت ہو گئی ہوتی

    ابھی برپا زمانے میں قیامت ہو گئی ہوتی

    جو آ جاتی مری چشمِ تمنا بات پر اپنی

    ہر اک جانب ہویدا تیری صورت ہو گئی ہوتی

    نہ رہتا چہرۂ اقدس اگر اکثر حجابوں میں

    زمانے کو ترے جلووں سے حیرت ہو گئی ہوتی

    اگر پاسِ ادب ان کا بڑھ کر تھا متا دامن

    مدینے تک مری وحشت کی شہرت ہو گئی ہوتی

    سکھائے آپ ہی نے دہر کو آدابِ انسانی

    جہاں سے ورنہ رخصت آدمیت ہو گئی ہوتی

    نبی نے اپنا کہہ کر آبرو رکھ لی مری ورنہ

    ابھی مجھ سے خطا محشر میں رحمت ہو گئی ہوتی

    زمانے بھر کو پیغامِ تسلی بخش نے والے

    مری تسکین کی بھی کوئی صورت ہو گئی ہوتی

    نہ دیتے مژدہ لا تقنطوا آقا اگر مجھ کو

    غمِ عصیاں سے میری غیر حالت ہو گئی ہوتی

    بنا دیتے جو قسمت ابرؔ وہ طیبہ میں بلوا کر

    قسم کھانے کے قابل میری قسمت ہو گئی ہوتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے