Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

احمد رضا خاں

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

احمد رضا خاں

MORE BYاحمد رضا خاں

    اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

    دل بیکس کا اس آفت میں آقا تو ہی والی ہے

    نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گور غریباں سے

    نبی امت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے

    ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر

    کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لاابالی ہے

    اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اکتاتا

    خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے

    زمیں تپتی کٹیلی راہ بھاری بوجھ گھائل پاؤں

    مصیبت جھیلنے والے ترا اللہ والی ہے

    نہ چونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی

    ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے

    رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اک میں کیا سبھی کو ہے

    تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے