Font by Mehr Nastaliq Web

خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

احمد یار خاں نعیمی

خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

احمد یار خاں نعیمی

MORE BYاحمد یار خاں نعیمی

    خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

    ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا

    آقا اگر کرم سے طیبہ مجھے بلاتے

    روضہ پہ صدقہ ہوتا ان پر نثار ہوتا

    وہ بیکسوں کے آقا بے کس کو گر بلاتے

    کیوں سب کی ٹھوکروں پرپڑکر وہ خوار ہوتا

    طیبہ میں گر میسر دو گز زمین ہوتی

    ان کے قریب بستا دل کو قرار ہوتا

    مر مٹ کے خوب لگتی مٹی مری ٹھکانے

    گر ان کی رہ گزر پر میرا مزار ہوتا

    یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد

    اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا

    بے چین دل کو اب تک سمجھا بجھا کے رکھا

    مگر اب تو اس سے آقا نہیں انتظار ہوتا

    سالکؔ ہوئے ہم ان کے وہ بھی ہوئے ہمارے

    دلِ مضطرب کو لیکن نہیں اعتبار ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے