وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
احمد یار خاں نعیمی
MORE BYاحمد یار خاں نعیمی
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رَسائی ہے
وہ رب کے ہیں رب ان کا ہے جو ان کا ہے وہ رب کا ہے
بے ان کے جو حق سے ملا چاہے دیوانہ ہے سودائی ہے
وہ سخت گھڑی اللہ غنی کہتے ہیں نبی نفسی نفسی
اس وقت اک رحمت والے کو مجرم امت یاد آئی ہے
اچھوں کا زمانہ ساتھی ہے میں بد ہوں مجھ کو نباہو تم
کہلا کے تمہارا جاؤں کہاں بے بس کی کہاں شنوائی ہے
آ جاؤ بدن میں جاں ہو کر اور دل میں رہو ایماں بن کر
ہے جسم ترا یہ جان تری اور دل تو خاص کمائی ہے
آنکھوں میں ہیں لیکن مثلِ نظر یوں دل میں ہیں جیسے جسم میں جاں
ہیں مجھ میں ولیکن مجھ سے نہاں اس شان کی جلوہ نمائی ہے
اللہ کی مرضی سب چاہیں اللہ رضا ان کی چاہے
ہے جنبشِ لب قانونِ خدا قرآن و خبر کی گواہی ہے
مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جنابِ ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے
دنیا کو مبارک ہو دنیا اللہ کرے وہ مجھ کو ملیں
ہر سر میں جن کا سودا ہے ہر دل جن کا شیدائی ہے
گو سجدئہ سر ہے ان کو منع لیکن دل و جاں ہیں سجدۂ کناں
ہے حکمِ شریعت سر پہ رواں دل جاں نے معافی پائی ہے
وہ کعبۂ سر ہے یہ قبلۂ دل وہ قبلۂ تن ہے یہ کعبۂ جاں
سر اس پہ جھکا دل ان پہ فدا اور جاں ان کی شیدائی ہے
لکڑی نے کیا ان سے شکوہ اونٹوں نے کیا ان کو سجدہ
ہیں قبلۂ حاجت عالم کے سالکؔ کیوں بات بڑھائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.