اس مبارک ماں پہ صدقہ کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں
اس مبارک ماں پہ صدقہ کیوں نہ ہوں سب اہلِ دیں
جو ہو ام المؤمنیں بنتِ امیر المؤمنیں
جن کا پہلو ہو نبی کی آخری آرام گاہ
جن کے حجرے میں قیامت تک نبی ہوں جا گزیں
آستاں ان کا فرشتوں کی زیارت گاہ ہے
کیونکہ اس میں جلوہ فرما ہیں امام المرسلیں
آپ کے دولت کدہ میں دولتِ دارین ہے
اس زمیں پر پھر نہ کیوں قربان ہو عرشِ بریں
کیا مبارک نام ہے اور کیسا پیارا ہے لقب
عائشہ محبوبۂ محبوبِ رب العالمیں
آپ صدیقہ پدر صدیق اور شوہر نبی
میکہ و سسرال اعلیٰ آپ خود ہیں بہتریں
کیوں نہ ہو رتبہ تمہارا اہل ایماں میں بڑا
سب تو ہیں مومن مگر ہیں آپ ام الموؤمنیں
دی گواہی آپ کی عفت کی سورہ نور نے
مدح کرتا ہے تری عصمت کی قرآنِ مبیں
ان کے بستر میں وحی آئے رسول اللہ پر
اور سلامِ خادمانہ بھی کریں روح الامیں
آپ کا علم و فقہ، تحقیقِ قرآن و حدیث
دیکھ کر حیران ہیں سارے صحابہ تابعیں
ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرماوے خدا
نازنینِ حق نبی ہیں تم نبی کی نازنیں
آیۂ تطہیر میں ہے ان کی پاکی کا بیاں
ہیں یہ بی بی طاہرہ شوہر امام الطاہریں
سالکِؔ خستہ تمہارا گو ہے نالائق مگر
ماں بُرے بیٹے کو اپنے سے جدا کرتی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.