Font by Mehr Nastaliq Web

غم نہ تھا عصیاں کا کیسا ہی یم_ذخار تھا

اکبر وارثی میرٹھی

غم نہ تھا عصیاں کا کیسا ہی یم_ذخار تھا

اکبر وارثی میرٹھی

MORE BYاکبر وارثی میرٹھی

    غم نہ تھا عصیاں کا کیسا ہی یم ذخار تھا

    احمد مرسل میری کشتی کا کھیونہار تھا

    کیا بڑی سرکار تھی اور کیا بڑا دربار تھا

    جس کا ناظر حق اور جبریل خدمت گار تھا

    یوں کہوں گا جا کے محبوب خدا تیرا خیال

    تیری فرقت میں مرا ہمدم تھا اور غمخوار تھا

    میری آنکھیں ہوتیں آغوش حلیمہ یا نبی

    میرا دل ہوتا جو تیری سیر کا گلزار تھا

    بے طلب اللہ نے کیا کیا دیا معراج میں

    طالع بیدار خواب احمد مختار تھا

    تھا وہ محبوب خدا اور سب تھے عاشق اس لیے

    سب رسولوں کا محمدؐ مصطفیٰ سردار تھا

    چاند سا چہرا اترا اللہ کو آیا پسند

    اے عرب کے نوجواں یوں تجھ پہ اتنا پیار تھا

    آ کے ٹکرایا ہے عصیاں کے جزیروں میں جہاز

    میرے مولیٰ تیری اک ٹھوکر سے بیڑا پار تھا

    اکبرؔ شیدا اسے جنت ملی بخشا گیا

    جو کہ مداح حبیب ایزد غفار تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے