Font by Mehr Nastaliq Web

دل کبھی قصد زیارت میں جو دم لیتا ہے

امیر مینائی

دل کبھی قصد زیارت میں جو دم لیتا ہے

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    دل کبھی قصد زیارت میں جو دم لیتا ہے

    چل کھڑے ہونے کی شوق اس سے قسم لیتا ہے

    قصد ہستی کا جو کرتا ہے تو ہمسر اس کا

    راستے ہی سے وہ پھر راہ عدم لیتا ہے

    گھر سے چلتا ہے مدینے کی طرف جو زائر

    پر قدم بڑھ کے ثواب اس کے قد لیتا ہے

    حکم دیتے ہی جو حضرت تو برہمن کیسا

    اٹھ کے بت خانہ بت راہ حرم لیتا ہے

    کیوں نہ سمجھے گا وہ طاعت میں کسی کی محنت

    مول شداد سے جو باغ ارم لیتا ہے

    میں بھی ہوں سبط محمد کے عزا داروں میں

    تعزیہ رکھتا ہے دل نالہ علم لیتا ہے

    مدح حضرت سے ملا ہے مجھے رتبہ یہ امیرؔ

    نام تعظیم سے حسان عجم لیتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 85)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے