دل کبھی قصد زیارت میں جو دم لیتا ہے
دل کبھی قصد زیارت میں جو دم لیتا ہے
چل کھڑے ہونے کی شوق اس سے قسم لیتا ہے
قصد ہستی کا جو کرتا ہے تو ہمسر اس کا
راستے ہی سے وہ پھر راہ عدم لیتا ہے
گھر سے چلتا ہے مدینے کی طرف جو زائر
پر قدم بڑھ کے ثواب اس کے قد لیتا ہے
حکم دیتے ہی جو حضرت تو برہمن کیسا
اٹھ کے بت خانہ بت راہ حرم لیتا ہے
کیوں نہ سمجھے گا وہ طاعت میں کسی کی محنت
مول شداد سے جو باغ ارم لیتا ہے
میں بھی ہوں سبط محمد کے عزا داروں میں
تعزیہ رکھتا ہے دل نالہ علم لیتا ہے
مدح حضرت سے ملا ہے مجھے رتبہ یہ امیرؔ
نام تعظیم سے حسان عجم لیتا ہے
- کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 85)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.