کیا چین آئے روضۂ شاہ زمن سے دور
کیا چین آئے روضۂ شاہ زمن سے دور
تڑپے نہ کس طرح جو ہو بلبل چمن سے دور
ہاتھوں میں دوستوں کے نہ آئے وہ سلسلہ
دشمن کی آنکھ زلف شکن در شکن سے دور
پردہ رہے لحد میں بھی احباب شاہ کا
دز و کفن کا ہاتھ الٰہی کفن سے دور
گویا زبان شمع جو ہوتی پکارتی
پرواز سے کہو کہ رہے انجمن سے دور
اے شوق چل شتاب مدینے کا قصد کر
ایسا نہیں ہے وادیِ غربت وطن سے دور
کیوں کر تمہیں سرشک جو ہو مدتوں سے دور
یعقوب اور یوسف گل پیرہن سے دور
نکلے جو کچھ زباں سے امیرؔ آپ بھی سنیں
گوش بشر نہیں ہے بشر کے دہن سے دور
- کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 85)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.