Font by Mehr Nastaliq Web

کیا چین آئے روضۂ شاہ زمن سے دور

امیر مینائی

کیا چین آئے روضۂ شاہ زمن سے دور

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    کیا چین آئے روضۂ شاہ زمن سے دور

    تڑپے نہ کس طرح جو ہو بلبل چمن سے دور

    ہاتھوں میں دوستوں کے نہ آئے وہ سلسلہ

    دشمن کی آنکھ زلف شکن در شکن سے دور

    پردہ رہے لحد میں بھی احباب شاہ کا

    دز و کفن کا ہاتھ الٰہی کفن سے دور

    گویا زبان شمع جو ہوتی پکارتی

    پرواز سے کہو کہ رہے انجمن سے دور

    اے شوق چل شتاب مدینے کا قصد کر

    ایسا نہیں ہے وادیِ غربت وطن سے دور

    کیوں کر تمہیں سرشک جو ہو مدتوں سے دور

    یعقوب اور یوسف گل پیرہن سے دور

    نکلے جو کچھ زباں سے امیرؔ آپ بھی سنیں

    گوش بشر نہیں ہے بشر کے دہن سے دور

    مأخذ :
    • کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 85)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے