چٹک کے کہتا ہے غنچہ غنچہ گلوں سے بڑھ کر بہار تم پر
چٹک کے کہتا ہے غنچہ غنچہ گلوں سے بڑھ کر بہار تم پر
چہک رہی ہے چمن میں بلبل ہزار جانیں نثار تم پر
تمہی خدائی کے بادشاہ ہو تمہی تو محبوبِ کبریا ہو
خدا نے ایسا حسیں بنایا کہ آیا خود اس کو پیار تم پر
نہیں ہے بے وجہ اشک باری ہے فیضِ سلطانِ عشق جاری
لٹا رہی ہے ہماری آنکھیں یہ گوہرِ شاہ سوار تم پر
چمن میں آئے جو سیر کو تم تو ہوش گلچیں کے ہوگئے گم
نثار کرنے وہ پھول لے کر چلیں نسیمِ بہار تم پر
تمہیں شفیع الامم بنایا بڑھایا سب سے تمہارا پایہ
ازل کے دن سے خدا نے رکھا ہر ایک امت کا بار تم پر
نبوت اک بے بہا تھا گہنا کہ سلسلے وار سب نے پہنا
تمہیں کیا خاتم النبیں کھلا کچھ ایسا یہ ہار تم پر
تم اور محبت کا اس سے دعویٰ تمہاری آنکھ اور اس کا جلوہ
امیرؔ تم کو ہوا ہے سودا جَنوں کا جن ہے سنوار تم پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.