Font by Mehr Nastaliq Web

چٹک کے کہتا ہے غنچہ غنچہ گلوں سے بڑھ کر بہار تم پر

امیر مینائی

چٹک کے کہتا ہے غنچہ غنچہ گلوں سے بڑھ کر بہار تم پر

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    چٹک کے کہتا ہے غنچہ غنچہ گلوں سے بڑھ کر بہار تم پر

    چہک رہی ہے چمن میں بلبل ہزار جانیں نثار تم پر

    تمہی خدائی کے بادشاہ ہو تمہی تو محبوبِ کبریا ہو

    خدا نے ایسا حسیں بنایا کہ آیا خود اس کو پیار تم پر

    نہیں ہے بے وجہ اشک باری ہے فیضِ سلطانِ عشق جاری

    لٹا رہی ہے ہماری آنکھیں یہ گوہرِ شاہ سوار تم پر

    چمن میں آئے جو سیر کو تم تو ہوش گلچیں کے ہوگئے گم

    نثار کرنے وہ پھول لے کر چلیں نسیمِ بہار تم پر

    تمہیں شفیع الامم بنایا بڑھایا سب سے تمہارا پایہ

    ازل کے دن سے خدا نے رکھا ہر ایک امت کا بار تم پر

    نبوت اک بے بہا تھا گہنا کہ سلسلے وار سب نے پہنا

    تمہیں کیا خاتم النبیں کھلا کچھ ایسا یہ ہار تم پر

    تم اور محبت کا اس سے دعویٰ تمہاری آنکھ اور اس کا جلوہ

    امیرؔ تم کو ہوا ہے سودا جَنوں کا جن ہے سنوار تم پر

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے