Font by Mehr Nastaliq Web

نہیں جب سے تم جلوہ گر شاہ قاتل

امجد رامپوری

نہیں جب سے تم جلوہ گر شاہ قاتل

امجد رامپوری

MORE BYامجد رامپوری

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    نہیں جب سے تم جلوہ گر شاہ قاتل

    برابر ہیں شام و سحر شاہ قاتل

    ترا حسنِ جذبِ اثر شاہ قاتل

    محبت ہے تو سر بسر شاہ قاتل

    تجسس میں از شرق تا غرب تیرے

    ہیں آوارہ شمس و قمر شاہ قاتل

    وہ کیا تیری شانِ طریقت کو سمجھے

    نہیں جس کو اپنی خبر شاہ قاتل

    ہر اک اہل نسبت کے نزدیک بیشک

    ہے جنت تری رہ گزر شاہ قاتل

    مرا دل ہے حسن حقیقت کا مسکن

    نظر ہے تری پردہ در شاہ قاتل

    غلط کیا جو کیفِ عقیدت میں کہہ دے

    ہر اک شے میں ہے جلوہ گر شاہ قاتل

    جہانِ طریقت میں دنیانے دیکھا

    تری ذات ہے مفتخر شاہ قاتل

    عقیدت کے چکھ پھول لایا ہے امجدؔ

    پئے نذر با چشمِ تر شاہ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 43)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے