نہیں جب سے تم جلوہ گر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
نہیں جب سے تم جلوہ گر شاہ قاتل
برابر ہیں شام و سحر شاہ قاتل
ترا حسنِ جذبِ اثر شاہ قاتل
محبت ہے تو سر بسر شاہ قاتل
تجسس میں از شرق تا غرب تیرے
ہیں آوارہ شمس و قمر شاہ قاتل
وہ کیا تیری شانِ طریقت کو سمجھے
نہیں جس کو اپنی خبر شاہ قاتل
ہر اک اہل نسبت کے نزدیک بیشک
ہے جنت تری رہ گزر شاہ قاتل
مرا دل ہے حسن حقیقت کا مسکن
نظر ہے تری پردہ در شاہ قاتل
غلط کیا جو کیفِ عقیدت میں کہہ دے
ہر اک شے میں ہے جلوہ گر شاہ قاتل
جہانِ طریقت میں دنیانے دیکھا
تری ذات ہے مفتخر شاہ قاتل
عقیدت کے چکھ پھول لایا ہے امجدؔ
پئے نذر با چشمِ تر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 43)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.