نسبت ِسرورِ کونین ہے نسبت تیری
نسبت ِسرورِ کونین ہے نسبت تیری
دل حیدر کی امانت ہے ولایت تیری
کھل گئی اہلِ بصیرت پہ حقیقت تیری
آئینہ ہے رخِ محبوب کا صورت تیری
تیرا ہر قول بنا نعرۂ جمہورِ وطن
دور تک دیکھتی رہتی تھی بصیرت تیری
کفر و ایماں کی کوئی قید نہیں ہے اس میں
عام ہے سب کی نگاہوں میں عقیدت تیری
ہم نے پایا ہے مقام شرفِ قربِ نظام
باہمہ جذبۂ اخلاص بدولت تیری
ربط باہم ترے احساس کا مقصود حیات
آدمیت سے مرکب ہے طریقت تیری
تو نے زنّار کو تسبیح کی عظمت بخشی
ہے ہمہ اوست کی تفسیر شریعت تیری
فرقہ بندی کی ہلاکت سے بچانے کے لیے
پھر نئے دور میں خسرو ہے ضرورت تیری
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 31)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.