مری زندگی کا یہی مشغلہ ہے
مری زندگی کا یہی مشغلہ ہے
لبوں پر مدینہ کی ہر دم صدا ہے
مکینِ مدینہ مکیں میرے دل میں
بڑا پیارا یہ جسم کا لوتھڑا ہے
یہ ارمانِ دل بھی مکمل ہو آقا
نگاہوں سے دیکھوں جو گنبد ہرا ہے
ایا کم ا یاھم کو ہر گز نہ بھولو
کہ شیطان مردود دشمن بڑا ہے
سرِ حشر نسبت کی تم لاج رکھنا
کہ نسبت کا آقا بہت غلغلہ ہے
خدارا کرم کی نظر اب تو کر دیں
درِ شاہ پہ آقا ارشدؔ پڑا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.