ذکرِ خدائے پاک میں ایسا لگا رہے
ذکرِ خدائے پاک میں ایسا لگا رہے
سجدہ کے ساتھ ساتھ ہی دل بھی جھکا رہے
عشقِ نبی میں بار بار آ آ کے جائے جاں
یا رب دعا ہے تا ابد یہ سلسلہ رہے
حبِ نبی کی شمع ہے سینے میں ضو فگن
مؤمن کو پھر تو کس لیے فکرِ جزا رہے
خورشیدِ حشر جس گھڑی دکھلائے اپنا زور
امت پہ سایہ رحمتِ حق کا تنا رہے
دوزخ کی کیا مجال جو دکھلا سکے گی آنکھ
ہے شرط دل میں عشق کا شعلہ دبا رہے
غوث الوریٰ و خواجۂ اجمیر کے طفیل
ولیوں کے در سے رشتۂ ارشدؔ جڑا رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.