Font by Mehr Nastaliq Web

وجودِ شاعرِ مدحت پہ خوف ہے طاری

اشفاق احمد غوری

وجودِ شاعرِ مدحت پہ خوف ہے طاری

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    وجودِ شاعرِ مدحت پہ خوف ہے طاری

    صراطِ نعت ہے تلوار ایک دو دھاری

    حروفِ نعت میں ہوں کیفیات بھی شامل

    یہاں عروض کی کافی نہیں ہے فن کاری

    گھلی ہے روح میں سرکار آپ کی چاہت

    وریدِ جاں میں رواں ہے بہ شکلِ سرشاری

    یقیں ہے حشر میں رسوا نہ ہونے دے گی مجھے

    مرے شفیع شہِ بحر و بر کی ستاری

    مرے خمیر میں ہے اہلِ بیت کی الفت

    مری سرشت ہے سادات سے وفا داری

    نکل ہی آیا غموں میں بھی لطف کا پہلو

    سنا ہے جب سے وہ کرتے ہیں سب کی غمخواری

    مٹھاس ہونٹوں پہ اشفاقؔ روز افزوں ہے

    زباں پہ جب سے ہوا وردِ یا نبی جاری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے