وجودِ شاعرِ مدحت پہ خوف ہے طاری
وجودِ شاعرِ مدحت پہ خوف ہے طاری
صراطِ نعت ہے تلوار ایک دو دھاری
حروفِ نعت میں ہوں کیفیات بھی شامل
یہاں عروض کی کافی نہیں ہے فن کاری
گھلی ہے روح میں سرکار آپ کی چاہت
وریدِ جاں میں رواں ہے بہ شکلِ سرشاری
یقیں ہے حشر میں رسوا نہ ہونے دے گی مجھے
مرے شفیع شہِ بحر و بر کی ستاری
مرے خمیر میں ہے اہلِ بیت کی الفت
مری سرشت ہے سادات سے وفا داری
نکل ہی آیا غموں میں بھی لطف کا پہلو
سنا ہے جب سے وہ کرتے ہیں سب کی غمخواری
مٹھاس ہونٹوں پہ اشفاقؔ روز افزوں ہے
زباں پہ جب سے ہوا وردِ یا نبی جاری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.