ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ
ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ
رکھتے ہیں مدینے میں حضوری کا ارادہ
ہم جیسے گداؤں کے لیے کوئے جناں میں
در سرورِ کونین کا رہتا ہے کشادہ
وہ رف رف و براق نشیں صاحبِ عالم
ہم مفلس و نادار غریب اور پیادہ
کیا پیش کروں کچھ بھی نہیں آپ کے لائق
توصیف کے کچھ حرف ہیں بے مایہ و سادہ
ہم حشر کے دن ڈھونڈنے والوں کو ملیں گے
دل اور جبیں شاہ کی چوکھٹ پہ نہادہ
روتے تھے تواتر سے تہجد میں حرا میں
مقصد تھا فقط امتِ عاصی کو افادہ
ہم لائقِ دیدارِ محمد نہیں لیکن
اشفاقؔ ہمیں رہتی ہے امید زیادہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.