Font by Mehr Nastaliq Web

ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

اشفاق احمد غوری

ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

    رکھتے ہیں مدینے میں حضوری کا ارادہ

    ہم جیسے گداؤں کے لیے کوئے جناں میں

    در سرورِ کونین کا رہتا ہے کشادہ

    وہ رف رف و براق نشیں صاحبِ عالم

    ہم مفلس و نادار غریب اور پیادہ

    کیا پیش کروں کچھ بھی نہیں آپ کے لائق

    توصیف کے کچھ حرف ہیں بے مایہ و سادہ

    ہم حشر کے دن ڈھونڈنے والوں کو ملیں گے

    دل اور جبیں شاہ کی چوکھٹ پہ نہادہ

    روتے تھے تواتر سے تہجد میں حرا میں

    مقصد تھا فقط امتِ عاصی کو افادہ

    ہم لائقِ دیدارِ محمد نہیں لیکن

    اشفاقؔ ہمیں رہتی ہے امید زیادہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے