نبی پر مر کے لطفِ زندگانی لے کے آیا ہوں
نبی پر مر کے لطفِ زندگانی لے کے آیا ہوں
فنا ہو کر حیات جاودانی لے کے آیا ہوں
ثبوت حق پرستی اور میرے پاس ہی کیا تھا
یہ پیشانی پہ سجدوں کی نشانی لے کے آیا ہوں
رسول اللہ یوں کفار کو تلقین کرتے تھے
کلام حق کتاب آسمانی لے کے آیا ہوں
دلِ مہجور کا یہ داغ نورانی بنے مولیٰ
نشانی لے کے جاؤں گا نشانی لے کے آیا ہوں
جنابِ شیخ دیکھو تو بہار دیدۂ گلگوں
الستی میکدہ کی گھولی چھانی لے کے آیا ہوں
پسند داورِ محشر جو دریا ہے ندامت کا
بشکل اشک اس چشمہ کا پانی لے کے آیا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.