تاجدار مدینہ کرم کیجیے آپ کے در پہ ہم پاتھ پھیلائے ہیں
تاجدار مدینہ کرم کیجیے آپ کے در پہ ہم پاتھ پھیلائے ہیں
ہند کے اہل ایماں کی سرکار ہم لے کے روداد مظلومیت آئے ہیں
آپ ہی تو ہیں سرکار جو ایک دن بوالبشر کی بھی مشکل میں کام آئے ہیں
لاج رکھ لیجیے ہم غریبوں کی بھی اتنی اپنی روداد غم لائے ہیں
کوئی حامی نہیں کوئی ناصر نہیں کوئی بھی اشک شوئی کی خاطر نہیں
آتش کفر کی آنچ ہے تیز تر اہل ایماں کے رخسار مرجھائے ہیں
اب مسلماں میں کچھ زور قوت نہیں جاں فروشی نہیں اور ہمت نہیں
آتشِ بربریت میں جلتے ہوئے آپ کا نام سینے سے چمٹائے ہیں
عزم و ایقان و جرات کی دولت ملے ہند میں مؤمنوں کو قیادت ملے
بارہا آپ نے رحمت عالمیں سینکڑوں ایسے اعجاز دکھلائے ہیں
رہنماؤں نے کی کون سی وہ خطا ہم کروڑوں ہیں پھر بھی ہیں بے دست و پا
اپنے اگلوں کی تاریخ کے سمانے یا نبی ہم ندامت سے شرمائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.