Font by Mehr Nastaliq Web

جلوے تھے ہمکنار ابھی کل کی بات ہے

بشیر زواری

جلوے تھے ہمکنار ابھی کل کی بات ہے

بشیر زواری

MORE BYبشیر زواری

    جلوے تھے ہمکنار ابھی کل کی بات ہے

    آنکھوں میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے

    حاصل تھا کوئے یار ابھی کل کی بات ہے

    منظر تھا خوشگوار ابھی کل کی بات ہے

    ہم تھے درِ حبیب تھا دل کو سکون تھا

    قسمت تھی سازگار ابھی کل کی بات ہے

    آٹھوں پہر تھا اپنی نگاہوں کے سامنے

    ان کا حسیں دیار ابھی کل کی بات ہے

    گنبد میں ڈھونڈتیں کبھی جالی میں ڈھونڈتیں

    نظریں جمالِ یار ابھی کل کی بات ہے

    ان کی تجلیات سے دل فیضیاب تھا

    نظروں میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے

    لیکن نہ آج در ہے نہ ان کا دیار ہے

    یوں تھے نہ اشک بار ابھی کل کی بات ہے

    وائے نصیب لوٹ کر آنا پڑا بشیرؔ

    سب لٹ گئی بہار ابھی کی بات ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے