جلوے تھے ہمکنار ابھی کل کی بات ہے
جلوے تھے ہمکنار ابھی کل کی بات ہے
آنکھوں میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے
حاصل تھا کوئے یار ابھی کل کی بات ہے
منظر تھا خوشگوار ابھی کل کی بات ہے
ہم تھے درِ حبیب تھا دل کو سکون تھا
قسمت تھی سازگار ابھی کل کی بات ہے
آٹھوں پہر تھا اپنی نگاہوں کے سامنے
ان کا حسیں دیار ابھی کل کی بات ہے
گنبد میں ڈھونڈتیں کبھی جالی میں ڈھونڈتیں
نظریں جمالِ یار ابھی کل کی بات ہے
ان کی تجلیات سے دل فیضیاب تھا
نظروں میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے
لیکن نہ آج در ہے نہ ان کا دیار ہے
یوں تھے نہ اشک بار ابھی کل کی بات ہے
وائے نصیب لوٹ کر آنا پڑا بشیرؔ
سب لٹ گئی بہار ابھی کی بات ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.