اٹھائی جا رہی تھیں جب خدا کے گھر کی دیواریں
اٹھائی جا رہی تھیں جب خدا کے گھر کی دیواریں
تو معمارانِ بیت اللہ نے سوچا کہ کیا مانگیں
معاً آئی لبوں پر یہ دعا اے خالقِ اکبر
تیری رحمت ہو اس گھر پر یہاں کے رہنے والوں پر
کرم سے تیرے اس صحرا میں ایسا شخص پیدا ہو
کہ جس کی ذات الطافِ خداوندی کا چشمہ ہو
جو بیت اللہ کے آداب انسانوں کو سکھلائے
طریقے جو عباداتِ خداوندی کے بتلائے
جو قلب و ذہنِ انسانی کو اک تابندگی بخشے
جہانِ کن فکاں کی روح کو اک زندگی بخشے
وہ امی جو کتابِ زندگی پڑھتا ہوا آئے
خدائی علم و حکمت کی یہاں تعلیم فرمائے
ہوئی مقبول معمارِ حرم کی یہ دعا ساری
کہ بطحیٰ سے ہوا وہ چشمہ، لطفِ خدا جاری
وہ ساری نوعِ انسانی کا رہبر اور ہادی ہے
وہ جس کے فیض سے شاداب ہر صحرا و وادی ہے
لواالحمد جس کے ہاتھ میں ہوگا قیامت میں
اسی کی بس سنی جائے گی انساں کی شفاعت میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.